فرانسسکو گویا کی سیاہ تصویروں کا قصہ (بودلیئر، ایڈگر ایلن پو، نیّر مسعود)

فرانسیسکو گویا (Francisco Goya) سے میرا تعارف چند برس پہلے ژاں روسو کے ایک مضمون کی معرفت ہوا۔ روسو کے مقالے میں پیدائشی نابینا بچوں کے خوابوں اور تربیت سے تعرض کیا گیا تھا۔ اول موضوع نادر، دوم روسو کا طرزِ بیان۔ جن لوگوں نے روسو کی غیر فلسفیانہ تحریریں پڑھی ہیں، وہ اس کی …

فرانسیسکو گویا (Francisco Goya) سے میرا تعارف چند برس پہلے ژاں روسو کے ایک مضمون کی معرفت ہوا۔ روسو کے مقالے میں پیدائشی نابینا بچوں کے خوابوں اور تربیت سے تعرض کیا گیا تھا۔ اول موضوع نادر، دوم روسو کا طرزِ بیان۔ جن لوگوں نے روسو کی غیر فلسفیانہ تحریریں پڑھی ہیں، وہ اس کی روزمرہ کے مشاہدے کی باریکی کے قائل ہیں۔ جزیات کے ضمن میں وہ تفصیلات کے افشردہ کو یوں پیش کرتا ہے، گویا کوئی چٹورا میوہ فروش، آبِ میوہ تیار کر رہا ہو۔ روسو کے اپنے لفظوں میں اسے Truth of Nature کہہ لیجیے۔ حسن عسکری روسو کی فرانسیسی تحریروں کو لغت کے طور پر حرزِ جاں بنائے ہوئے تھے۔ بہ ہر صورت گویا کے نام کی مناسبت نے مجھے چونکایا۔ میں نے خاموشی سے اسے کریدنا شروع کر دیا۔ اُن دنوں میں نیّر مسعود پر اپنی پی ایچ ڈی کے آخری مراحل میں تھا۔ نیّر مسعود کی مرموز شخصیت اور روسو و گویا کی خفیف مجنونیت (Morbidness) باہم مختلط ہونے لگی۔

یہ نکتہ خاصا پرانا ہو چکا ہے کہ ادبیات عالیہ کا ظہور یا پیدائش کسی نہ کسی طور، شخصی و انفرادی کمی کے ازالے کی صورت ہوتا ہے۔ (نفسیات میں اس تصور کا پہلا اظہار ایڈلر کے ہاں ہوا ہے)۔ یہی حال دیگر فنون لطیفہ کا بھی ہے۔ نظریاتی بنیادوں کو بالفرض چھوڑ بھی دیا جائے، عملی طور پر یہ نکتہ نہایت دل چسپی کا حامل ہے۔ ادب کے مبتدی کے لیے بھی واضح ہے کہ ہومر کے اندھے پن سے بورخیس کی نابینائی اور کافکا کی پدری شفقت سے محرومی نے کیا کیا ادبی شاہکار پیدا کیے ہیں۔ ظاہر ہے، میں، خدا ناکردہ، ان نابغوں کی محرومیوں سے حظ اندوز نہیں ہو رہا، محض نکتہ بیان کر رہا ہوں۔(بورخیس کے ایک کم سواد ناقد نے اس کے اندھے پن کے دور کی نظموں کو رنگوں کی انوکھی تفہیم کے لیے خوش گوار قرار دیا ہے۔) فرانسیسکو گویا کی زندگی میں بھی اس کی اچانک غائب ہو جانے والی سماعت، مصوری کے یکسر نئے اور غیر دریافت شدہ (خوش گوار ہرگز نہیں) پہلوؤں کو سامنے لے کر آئی اور اس نے نقاشی کے اُن چودہ شاہکاروں کو جنم دیا، جنھیں آج دنیا سیاہ تصویریں یا Black Paintings، کے نام سے یاد کرتی ہے۔ واضح رہے کہ بلیک سے مراد، سیاہ اور تاریک دونوں ہیں۔ قبل اس سے کہ، سیاہ تصویروں اور ان کی وحشت و ندرت پر بات ہو، گویا کے سوانحی حالات کو مختصر طور پر جان لینا غیر ضروری نہ ہو گا۔

گویا 1746ء میں اسپین کے ایک چھوٹے سے قصبے فُوینتی تودوس میں پیدا ہوا۔ اس کے والد سونے کے پتوں(Gold Leaves) کے تاجر تھے۔ ان پتوں کی درآمد سے وہ کلیسا کے در و دیوار کی آرائش کا کام کرتے تھے۔ بدیہی طور پر، باپ کے پیشے نے گویا کے دل میں کلیسا اور فنون لطیفہ سے محبت پیدا کی۔ ابتدائی ربط و ضبط کے بعد، گویا نے رسمی تعلیم کا آغاز سرقسطہ (Zaragoza) میں ایک مقامی مصور خوسے لوزان ای مارتی نیز سے تربیت حاصل کرنے کے طور پر کیا۔ لوزاں نیپلز میں تربیت یافتہ تھا اور فن کی باریکیوں اور مقامیت کا دل دادہ تھا۔ اس کی شخصیت سے وابستگی نے گویا میں مقامیت کے رنگوں کا تنوع پیدا کیا۔

گویا نے مصوری کے لیے مختلف ممالک کا سفر بھی کیا۔ اطالیہ کا قیام خاص طور پر نتیجہ خیز ثابت ہوا۔ یہ 1771ء کی بات ہے۔ کچھ عرصہ وہاں گزارنے کے بعد سال کے آخر میں وہ میڈرڈ میں موجود تھا، جہاں گرجا کی چھتوں اور دیواروں پر نقش و نگار بنانے کا اہم کام اس کے سپرد ہوا۔ یہ کام اگلے دس سال جاری رہا۔ اگلے چند برسوں میں (1771,72,73ء) میں اسے درباری چترکار فرانسسکو بایئو کا شاگرد بننے کا موقع ملا۔ بائیو کے ساتھ گویا کی ایسی گاڑھی چھنی کہ 1773ء میں استادی شاگردی کا یہ رشتہ حقیقی رشتے میں بدل گیا۔ گویا نے بایئو کی بہن سے شادی کر لی۔ یہ رفاقت مصوری کے سفر میں خاصی معاون ثابت ہوئی۔ گویا کے سات بچے ہوئے، جو یکے بعد دیگرے مرتے چلے گئے، صرف ایک بیٹے اور بیٹی کو زندگی کی روشنی دیکھنا نصیب ہوئی۔ (غالب کے ساتھ مماثلت کتنی سامنے کی ہے : بہرا ہوں میں تو چاہیے دونا ہو التفات)۔ البتہ بیوی کے اثر و رسوخ کے سبب وہ شاہی دربار سے وابستہ ہو گیا اور اسپین کے شاہ کارلوس سوم اور بعد ازاں کارلوس چہارم کے درباری مصور مقرر ہوا۔

1775ء میں اس نے ساٹھ سے زائد مصوری کے ابتدائی خاکے بنانا شروع کیے، یہ گویا کے فن کی شدت کا نقطۂ آغاز تھا۔ 1792ء تک وہ سانتا باربرا کی شاہی ٹیپسٹری فیکٹری کے لیے یہ کام کرتا رہا۔ یہ تصویریں اُس زمانے کی روزمرہ زندگی، امیروں کے مشاغل اور عام لوگوں کی تفریحی سرگرمیوں کے مناظر پر مشتمل تھیں۔
گویا نے مرزا غالب کے انداز میں ان مصوروں کی درجہ بندی کی ہے، جنھوں نے اسے متاثر کیا اور اسلوب کے تعین میں گاہے گاہے اسے مدد فراہم کی۔ اس کے مطابق، اس کے تین بڑے استاد تھے: ویلازکویز، ریمبراں، اور سب سے بڑھ کر فطرت۔ ریمبراں کی کندہ کاریوں نے اس کی بعد کی تصویروں اور نقاشی پر گہرا اثر ڈالا۔ ویلازکویز کی چتر کاری نے اسے فطرت کا براہِ راست مطالعہ کرنا سکھایا اور حقیقت نگاری (Realism) کی کاٹ دار زبان سے روشناس کرایا۔

1793ء میں گویا عجیب و غریب بیماری کا شکار ہو گیا۔ آج تک اس کا معاملہ فیصل نہ ہو سکا۔ کچھ ناقدین کے مطابق، اسے سیسے کا زہر کھلایا گیا، جب کہ دیگر اسے کسی مرموز یا جنسی بیماری کا حاصل سمجھتے ہیں۔ وجہ جو بھی ہو، گویا عمر بھر کے لیے بے یار و مددگار ہو کر رہ گیا۔
اس کی قوت سماعت ختم ہو گئی۔ یہ معذوری محض جسمانی نہیں، روحانی و تعقلی بھی تھی۔ وہ موسیقی اور طویل مجلسی نشستوں کا رسیا تھا۔ سماعت کی غیر موجودگی میں اس کے روزمرہ کے معمولات خواب بن کر رہ گئے۔

گویا کی آخری دور کی زندگی کے بارے میں ہمارے معلومات کم ہیں۔ وہ سیاسی شعور کا حامل فن کار تھا۔ گمان غالب ہے، اس نے آخری دور کی متعدد تخلیقات کو منظرِ عام پر آنے سے باز رکھا ہو گا۔ اسے چپکے چپکے گھر گھسنا بن کر کام کرتے رہنے کی عادت تھی۔ البتہ آخری سالوں میں دبے پاؤں آنے والی کبرسنی کے خوف نے اسے شدید متاثر کیا۔ دنیا بھر کے کئی فن کار اور ادباء مرگ ترسیدگی (Gerascophobia) کا شکار رہے۔ اس اندیشے کے باعث گویا نے عوامی اجتماعات سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ 1810ء کے آخر میں وہ میڈرڈ سے باہر ایک الگ تھلگ فارم ہاؤس میں گوشہ گیر ہو گیا۔ بچوں کی الم ناک اموات نے اسے طبیبوں کی طرف سے بیگانہ اور بے اعتماد کر دیا تھا۔ وہ گھر سے نکلتا نہ کسی آنے والے کا خیر مقدم کرتا۔ عام لوگ اس کے فارم ہاؤس کو، بہرے کا گھر (لا کوئنتا دل سوردو) کہتے تھے. حیرت کی بات ہے، گویا کا مکان، اس سے پہلے بھی ایک ایک بہرے کی ملکیت رہ چکا تھا. گھر کو یہ نام اسی پہلے شخص کی معذوری کی بنیاد پر دیا گیا تھا۔

پچھہتر برس کی عمر میں، تنہائی
اور ذہنی و جسمانی یاسیت کی کیفیت میں، اس نے اپنی مشہور، چودہ سیاہ تصویروں (Black Paintings) کا سلسلہ شروع کیا۔ جو آج بھی مصوری کی تاریخ میں نادر و شاہ کار مانی جاتی ہیں۔ حیرت کی بات ہے، گویا نے ان تمام تصویروں کو
اپنے گھر کی پلستر شدہ دیواروں پر بنایا۔ وہ ان تصویروں کو ہر حال میں نمائش سے دور رکھنا چاہتا تھا۔ یہی وجہ ہے اس نے اپنے خطوں سمیت کسی ملاقاتی سے ان تصویروں کا ذکر نہیں کیا۔ ناقدین کا کہنا ہے، ان چودہ شاہ کاروں میں گویا کے ذاتی و اجتماعی غم دخول کر گئے ہیں۔ 1874ء میں گویا کی وفات کے تقریباً پچاس برس بعد، مالک مکان، بیرن فریڈرک ایمیل ڈی اِرلانگر نے ان تصویروں کو دیواروں سے اتار کر کینوس پر منتقل کروا دیا۔ بحالی (Restoration) کے اس عمل کے دوران ان فن پاروں میں نمایاں تبدیلیاں آ گئیں، اور آرتھر لوباؤ کے الفاظ میں، آج جو کچھ باقی ہے وہ ”زیادہ سے زیادہ گویا کی اصل تصویروں کی ایک بھدی نقل“ ہے. امتداد زمانہ، دیواری کینوس کی فطری بوسیدگی اور پلستر کی خستہ حالت کے باعث کئی تصویریں شدید متاثر ہوئیں اور رنگوں کے کنارے اور اندھیرے اجالے غائب ہوتے چلے گئے۔ آج یہ تمام تصویریں میوزیو دل پراڈو، میڈرڈ میں مستقل نمائش کے لیے رکھی گئی ہیں۔

مصوری کے مورخین اور نقادوں نے سیاہ تصویروں کو، درج ذیل ناموں سے منسوب کیا ہے۔

1۔ اپنے لخت جگر کو ہڑپ کرتا زحل، Saturn Devouring His Son
2. کتا، The Dog
3۔ چڑیلوں کی مجلس، Witches’ Sabbath
4۔ دو بڈھے، Two Old Men
5۔ یخنی پیتے دو بڈھے، Two Old Men Eating Soup
6.جوڈتھ اور ہولوفرنیس، Judith and Holofernes
7۔ لا لیوکادیا، La Leocadia
8. سان اِسیدرو کے چشمے کی زیارت،
Pilgrimage to the Fountain of San Isidro
9۔ تفتیشِ عقائد کی عدالت کا جلوس،
Procession of the Holy Office
10۔ اسمودیا، Asmodea
11۔ مطالعہ کرتا ہوا آدمی، Men Reading
12۔ ہنستی ہوئی عورتیں، Women Laughing
13۔ عصاوں سے لڑائی، Fight with Cudgels
14۔ تقدیر کی دیویاں، The Fates (Atropos)

فنی اعتبار سے چودہ تصویروں کے اس سلسلے میں گویا کا آرٹ اپنی انتہا اور معراج کو چھوتا دکھائی دیتا ہے۔ ان تخلیقات کے ذریعے مصوری کی دنیا میں انقلاب آ گیا۔ ان میں سیاہ رنگ کے بڑے بڑے دھبے خطوط (Lines) کو تقریباً غائب کر دیتے ہیں اور رنگ اور علامتیں ٹھوس اور حقیقی شکلوں کی جگہ لے لیتی ہیں۔ گویا کے موقلم (Brush) کی لہریں (اسٹروکس) گاڑھی، موٹی، طویل، لہریا، سریع اور اظہاریت (Expressionism) کے پیرائے سے بھرپور ہیں۔ تصویروں کی ترکیب (Composition) بھی اپنے عہد کے اعتبار سے نئی اور اچھوتی ہے۔ بیشتر تصاویر میں مرکزی کردار تصویر کے وسط میں نہیں بلکہ ایک طرف کو دکھائے گئے ہیں۔ اس قسم کا شعوری عدم توازن ان تخلیقات کی جدید ترکیبی ساخت اور جدت (Compositional Modernity) کی نمایاں علامت ہے۔

انھیں سیاہ تصویریں یا Black Paintings اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ مکمل طور پر شبانہ (Nocturnal) کیفیت کی حامل ہیں۔ ان میں روشنی کا احساس تقریباً ناپید ہے، یعنی دن کا اختتام ہو چکا ہے۔ پس منظر میں سیاہ رنگ غالب ہے۔ جو روشنی کے غیر کی علامت بن جاتا ہے۔ مجموعی منظرنامے سے شدید مایوسی، خوف، پراسراریت، ہیبت اور ایک غیر حقیقی لیکن اٹل فضا کا احساس پیدا ہوتا ہے۔
البتہ اضدادی جوڑوں (Binary Opposites) کے طور پر، مطلق اندھیرے سے روشنی کی غیریت (Otherness) کا شدید احساس پھوٹتا محسوس ہوتا ہے۔

تصویروں میں استعمال ہونے والے رنگ محدود ہیں۔ گویا کے رنگوں کی بساط، گیروی (Ocher)، سنہری، مٹیالے، سرمئی اور سیاہ رنگوں پر مشتمل ہے۔ سفید رنگ کہیں کہیں ملبوسات میں تضاد (Contrast) پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ آسمان کے لیے لاجوردی رنگ کے سائے بھی ملتے ہیں۔ سبز رنگ بھی شاذ ہے۔

گویا نے تصویروں کو شدید جذباتی کیفیت کے ساتھ تخلیق کیا ہے۔ اس کی توجہ انسانی جسم کی ظاہری ساخت سے زیادہ کرداروں کے چہروں کے تاثرات پر مرکوز تھی۔ ان کی شکلیں گہری فکر، اضطراب یا وجدانی کیفیت کی ترجمانی کرتی ہیں۔ کرداروں کی آنکھیں پوری طرح کھلی ہیں، پتلیوں کے گرد سفید رنگوں کے باریک اور ہلکے کنارے نمایاں ہیں۔ ان کے جبڑے اس طرح کھلے ہیں جیسے کسی مضحکہ خیز مگر خوف ناک چوپایوں کے چہروں کو متحجر کر دیا گیا ہو۔ گویا نے بدہیئتی، خوف اور دہشت کو پوری شدت سے پیش کیا ہے۔

جدید مصوروں میں پابلو پکاسو اور سلویدر دالی نے گویا کی سیاہ تصویروں پر عالمانہ غور و فکر کیا ہے۔ پکاسو اپنے خطوں میں گویا کی مصوری کو دنیا اور انسان کو دیکھنے کا ساتواں رخ قرار دیتا ہے۔ جب کہ دالی نے گویا کو اپنے طرزِ فن کا باوا آدم کہہ کر خراج تحسین پیش کیا ہے۔

مغرب میں مصوروں کے علاوہ، شعراء و ادباء نے بھی گویا کی فنی گہرائی پر تعمق کیا ہے۔ بودلیئر آخری دنوں میں نیم دیوانگی کی حالت میں گویا کا نام لے لے کر محویت کے کا شکار ہو جاتا تھا۔ بودلیئر کی نیک دل اور سادہ لوح ماں، جو اس کے ذہنی و روحانی کرب کو مذہب سے دوری کا شاخسانہ خیال کرتی تھی، اس کی نجات کے لیے دعا کرتی تھی۔ اس نے اپنی مشہور زمانہ (یا بدنام زمانہ) کتاب، بدی کے پھول، میں گویا پر ایک نظم بھی لکھی ہے اور اس کے لیے nightmare full of unknown things کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ بودلیئر کے علاوہ، ایڈگر ایلن پو اور فرنینڈو پیسویا نے بھی گویا کی مصوری کو اپنے فن کا ماخذ قرار دیا ہے۔ ایڈگر ایلن پو کا فن (فکشن اور شاعری) براہِ راست گویا کی سیاہ مصوری سے مستعار دکھائی دیتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے، پو کی کہانی، The Fall of the House of Usher ”بہرے کے گھر“ ہی میں لکھی گئی ہو۔ نوبل انعام یافتہ مصنف، ایو اینڈریسے، نے گویا کو اپنے تاریخی فکشن (Conversation with Goya) کا حصہ بنایا ہے اور اس پر غیر معمولی سوانحی مضمون بھی لکھا ہے۔

اردو میں فرانسسکو گویا کا ذکر، حسن عسکری اور نیّر مسعود کے ضمن میں ملتا ہے۔ گویا اور نیّر مسعود فن اور شخصیت کے حوالے سے کافی حد تک مماثل ہیں۔ نیّر مسعود نے گویا کا حوالہ ڈاکٹر وحید قریشی کے نام اپنے ایک خط، مرقومہ 1978ء میں دیا ہے۔ وہ مصوری کے فن میں کامل دست گاہ رکھتے تھے۔ ان کی بنائی ہوئی تصویروں کو دیکھ کر گویا کے اسلوب کا بہ آسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ 1975ء میں کتاب نگر، لکھنؤ سے شائع ہونے والے، منیر نیازی کے شعری مجموعے، دشمنوں کے درمیان شام، کا سرورق نیّر مسعود کا بنایا ہوا ہے۔ اس کو دیکھ کر ان پر گویا کے اثرات کا بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے۔ شاید ان کا گویا سے تعارف، ایڈگر ایلن پو کی معرفت ہوا ہو!

نیّر مسعود کے افسانوں کی مرموز اور پراسرار فضا میں بیشتر تصویروں کا ذکر آتا ہے۔ شکستہ مکانوں کی تڑختی دیواروں پر آویزاں پرانی تصویریں، جو عجیب و غریب ہیئت کے پرندوں، جانوروں اور حشرات کی باقیات سے عبارت ہوتی ہیں۔ کئی افسانوں کی فضا میں سیاہی اور اس کے علی الرغم سفیدی کا تضاد گویا کی یاد تازہ کرتا ہے۔ نیّر مسعود کی ذاتی شخصیت میں بھی ایسی لاتعداد پراسرار گھتیاں موجود تھیں، جو انھیں ناقابل فہم بناتی تھیں۔ ساگری سین گپتا کو دیے گئے انٹرویو میں کچھ واقعات اور ذہنی پیچیدگیوں کا اظہار ہوا ہے۔ اسّی کی دہائی میں انیس اشفاق نے نیّر مسعود کی شخصیت پر ایک دل چسپ اور قدرے وحشت انگیز افسانہ بھی لکھا، جس کا نام، آئینہ گر، ہے۔ یہ افسانہ بھی گویا کی یاد تازہ کرتا ہے۔

قصہ مختصر، عالمی سطح پر، گویا کی شخصیت، شکستگی اور سیاہ تصویروں کی جس طور سے تعبیر و توضیح کی گئی ہے، اس سب سے میر کا شعر یاد آتا ہے :

خوش ہیں دیوانگی میرؔ سے سب
کیا جنوں کر گیا شعور سے وہ
(دیوان ششم)

سیاہ تصویروں میں پائی جانے والی گہرائی، شعور سے کیا جانے والا جنون نہیں تو اور کیا ہے!

ڈاکٹر ارسلان راٹھور

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button